پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مقبول بٹ شہید اشرف قریشی اور ہاشم قریشی صاحب کا استقبال۔
وہ دن جب لاہور نے کشمیر کی آواز سنی 1971 کا سال پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی ہنگامہ خیز سال تھا۔ مشرقی پاکستان میں خون بہہ رہا تھا، سیاسی طوفان تھا، اور نوجوان نسل ہر طرف سوالات اٹھا رہی تھی۔ اسی ماحول میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلبہ نے تین کشمیری حریت پسندوں کا والہانہ استقبال کیا۔مقبول بٹ، اشرف قریشی اور ہاشم قریشی یہ تین نام اس وقت کشمیری نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کشمیر کی آزادی کو نہ بھارت کے ساتھ جوڑا، نہ پاکستان کے ساتھ بلکہ انہوں نے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"کشمیر نہ بھارت کا ہے، نہ پاکستان کا کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے۔"
یہ آواز اس دور میں ایک انقلاب تھی۔پنجاب یونیورسٹی کے استقبال سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تینوں کشمیری نوجوان کس پس منظر میں لاہور آئے تھے۔30 جنوری 1971 کو ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے انڈین ایئرلائنز کے طیارے "گنگا" کو سری نگر سے لاہور لے جانے پر مجبور کیا۔ یہ کوئی دہشت گردی نہ تھی یہ ایک سیاسی احتجاج تھا۔ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری نوجوانوں کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے کا انتہائی اور جرات مندانہ قدم تھا اور تمام مسافروں کو بحفاظت رہا کیا گیا۔اس وقت پاکستانی میڈیا اور عوام نے انہیں ہیروز کہا۔ لوگ ان سے ملنے آئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے انہیں بلایا۔ ان کے استقبال میں نعرے لگے، تقریریں ہوئیں۔
جب یہ تینوں حریت پسند پنجاب یونیورسٹی لاہور پہنچے تو طلبہ کا جم غفیر ان کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ نوجوان آنکھوں میں چمک تھی، دلوں میں جوش تھا۔لیکن جب مقبول بٹ نے بات کی تو انہوں نے وہ کہا جو سننے والوں نے شاید توقع نہیں کی تھی۔ انہوں نے صاف کہا کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیریوں کا مسئلہ ہے
پاکستان یا بھارت کا الحاق کشمیریوں کی منزل نہیں کشمیری عوام کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا حق ہے اور ریاست جموں کشمیر کی آزادی ہماری منزل ہے۔ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے بھی یہی موقف دہرایا۔ یہ الفاظ طلبہ کے دلوں میں اترے لیکن یہی الفاظ ان تینوں کے لیے وبالِ جان بن گئے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے جب دیکھا کہ یہ تینوں پاکستان کے مفادات کے لیے نہیں بلکہ کشمیریوں کی حقیقی آزادی کے لیے کام کر رہے ہیں تو رویہ یکدم بدل گیا۔ ہیرو راتوں رات مجرم بن گئے۔
جون 1971 میں ہاشم قریشی کو شاہی قلعہ لاہور لے جایا گیا جہاں ان پر بے انتہا تشدد کیا گیا۔ شاہی قلعہ مغل بادشاہوں کی شان و شوکت کی علامت تھا جو بعد میں پاکستانی ریاست کا عقوبت خانہ بن چکا تھا۔تشدد کے بعد انہیں ملتان سنٹرل جیل میں ایک تنہا سیل میں بند کر دیا گیا۔ جہاں تک میں نے پڑھا یہ سیل صرف 12×8 فٹ کی تھی اور چھ ماہ تک وہ اس تنہا کوٹھری میں بند رہے۔
جب انہوں نے سپریٹنڈنٹ سے صرف یہ مانگا کہ چند گھنٹے باہر چلنے پھرنے دیا جائے جیسا سزائے موت کے قیدیوں کو بھی دیا جاتا ہے تو جواب ملا ہمیں ڈر ہے کہ آپ کہیں اڑ نہ جائیں۔
یکم اکتوبر 1971 کو ہاشم قریشی نے اسی تنہا سیل میں نمازیں اور تلاوت کرتے ہوئے اپنی 18ویں سالگرہ منائی۔2 دسمبر 1971 کو انہیں ملتان سے لاہور کیمپ جیل منتقل کیا گیا جہاں مارشل لا کے تحت اسپیشل کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا۔
مقبول بٹ کا سفر اس سے بھی زیادہ المناک تھا۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے انہیں اپنا دشمن قرار دیا۔ بھارتی قید میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔9 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں مقبول بٹ کو پھانسی دے دی گئی۔ان کی لاش تک خاندان کو نہیں دی گئی۔ آج بھی وہ اپنی سرزمین سے دور تہاڑ جیل کے احاطے میں دفن ہیں
مقبول بٹ، ہاشم قریشی اور اشرف قریشی کی کہانی ہمیں وہ تلخ سچائی بتاتی ہے جسے اکثر چھپایا جاتا ہےکشمیری عوام کو صرف بھارت نے نہیں کچلا۔جب تک یہ حریت پسند پاکستانی مفادات کے لیے مفید تھے انہیں ہیرو کہا گیا، استقبال کیا گیا، پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔جیسے ہی انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے آلہ کار نہیں، ہم ریاست جموں کشمیر ازاد چاہتے ہیں اسی لمحے ان کا عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا۔شاہی قلعے کی کالی کوٹھریاں، ملتان جیل کے تنہا سیل، مارشل لا کی عدالتیں یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
مقبول بٹ شہید ہو گئے لیکن ان کا خواب زندہ ہے۔ہاشم قریشی نے جیل کاٹی، تشدد سہا، لیکن سچ نہیں چھوڑا۔اشرف قریشی نے مشکلیں برداشت کیں لیکن موقف نہیں بدلا۔1971 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے سامنے جو الفاظ کہے گئے وہ آج بھی اتنے ہی سچے ہیں جتنے اس دن تھے کشمیر نہ بھارت کا ہے، نہ پاکستان کا کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے